غزل
شاہانہ ناز
دل کے تالاب میں ہلچل نہیں ہونے دیتا
وہ مجھے پیار میں پاگل نہیں ہونے دیتا
روز بنیاد میں رکھتی ہوں نئے خوابوں کی
پر وہ تعمیر مکمل نہیں ہونے دیتا
ابر امید نہیں کھل کے برستا مجھ پر
دشتِ امکاں کو وہ جل تھل نہیں ہونے دیتا
آنے میں صدیاں لگا دیتا ہے ملنے کو مجھے
جانا ہو آج تو وہ کل نہیں ہونے دیتا
جو ستم گر ہے وہی شخص مسیحا ہے مرا
زخم دے کر مجھے,,گھائل نہیں ہونے دیتا
بات کرتے ہوئے نظروں کو ملاتا ہی نہیں
وہ مری آنکھ کو دلدل نہیں ہونے دیتا
تشنگی میری مٹاتا ہی نہیں شاہانہ
اپنی ہستی کو وہ چھاگل نہی ہونے دیتا

0 Comments