Hifsaalmas

دل کے تالاب میں ہلچل نہیں ہونے دیتا ازقلم شاہانہ ناز

غزل

 شاہانہ ناز 



دل کے تالاب میں ہلچل نہیں ہونے دیتا

وہ مجھے پیار میں پاگل نہیں ہونے دیتا


روز بنیاد میں رکھتی ہوں نئے خوابوں کی

پر وہ تعمیر مکمل نہیں ہونے دیتا


ابر امید نہیں کھل کے برستا مجھ پر

دشتِ امکاں کو وہ جل تھل نہیں ہونے دیتا


آنے میں صدیاں لگا دیتا ہے ملنے کو مجھے

 جانا ہو آج تو وہ کل نہیں ہونے دیتا


جو ستم گر ہے  وہی شخص مسیحا ہے مرا

زخم دے کر مجھے,,گھائل نہیں ہونے دیتا


بات کرتے ہوئے نظروں کو ملاتا ہی نہیں

وہ مری آنکھ کو دلدل نہیں ہونے دیتا


تشنگی میری مٹاتا ہی نہیں شاہانہ

اپنی ہستی کو وہ چھاگل نہی ہونے دیتا

Post a Comment

0 Comments