بانہوں کا ہار
مومنہ شکیل
مَیں رات کے پچھلےپہروں میں
جب سارا عالم سوتا ہے
اک خواب سا دیکھا کرتی ہُوں
جس کی کوئی تعبیر نہیں
اِک خواہش دل میں اٹهی ہے
وہ جس نے ادھورا رہنا ہے
لفظوں کا سہارا لے کر مَیں
تِری یاد کنارہ لے کر مَیں
اِک خوف میں پڑ سی جاتی ہوں
کچھ سوچ کے ڈر سی جاتی ہوں
پهر خاموشی کے آنچل میں
کچھ زخمی زخمی لفظوں سے
ٹوٹے پھوٹے جذبوں کے سہارے
بوسیدہ کاغذ پر اپنی
یہ خواہش لکھ ہی دیتی ہوں
کب تک تو میرا ہو گا یار؟
اور کب میری خواہش کے گلے میں
ہو گا تِری بانہوں کا ہار....؟
![]() |
| مومنہ شکیل |

0 Comments