غزل
کوکب رضا لچھمی پور بدایوں انڈیا
ایسا پہلے کبھی سمجھا ناہی سوچا مرے والد
یاد رکھیں گے یہ احساں ترا اچھّا مرے والد
دونوں ہم دنیائے فانی میں رہیں گے اک ساتھ
درماں حشر میں ہم کو ہے بچھڑنا مرے والد
رات ہوتے ہی مجھے ناگ نظر آتے ہیں
ایک دل چاک مرا دوسرا چندا مرے والد
خوں پسینے کو بہاکر وہ نصیب ہوتا ہے
مفت میں دیتا نہیں کوئی بھی ٹکڑا مرے والد
زندگی شرط ہے اڑنے کی تو جاری رکھّو
پر سمیٹو گے تو تیّار ہے پنجرا مرے والد
ہم کو اڑتی ہوئی مکھّی نے ہے لال کیا
لے گیا توڑ کوئی شہد کا چھتّا مرے والد
ہے دھنی بات کے کوکب میں ذرا عیب سہی
بلیقیں جیسا بھی ہے ہے آپکا بیٹا مرے والد

0 Comments