Hifsaalmas

پاکستان میں مہنگائی سے پریشان عوام

 پاکستان میں مہنگائی سے پریشان عوام 

زونیرا شرافت (لاہور)




مہنگائی سے پریشان غریب عوام کا کہنا ہے کہ


"اب ہم ایک وقت کا کھانا ہی کھا سکتے ہیں. مہنگائی کی وجہ سے اب یہ ممکن نہیں رہا کہ دو وقت کا کھانا کھا سکیں. کیا کریں مجبوری ہے. دل تو کرتا ہے کہ دو وقت کا کھانا پکائیں یا ایک بار ہی اتنا پکالیں کہ دو وقت کھا لیں لیکن اب جیب اجازت نہیں دیتی"

رضیہ ہمارے محلے کی رہائشی ہیں جو گھروں میں صفائی کا کام کرتی ہیں. رضیہ ماہانہ 10 سے 12 ہزار روپے کما لیتی ہیں .ان کے چھ بچے ہیں جن میں چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں. پانچ سال پہلے ان کے شوہر کی وفات ہوگئی تھی. رضیہ نے بتایا کہ جن گھروں میں وہ کام کرتی ہے وہاں سے کبھی 



کبھار بچا کچا کھانا بھی مل جاتا یے لیکن ہر روز ایسا نہیں ہوتا. انھوں نے بتایا کہ دودھ اب اتنا مہنگا ہوگیا ہے کہ صبح کی چائے بھی چھوڑ دی یے.

کھانے پینے کے اخراجات کے علاوہ بل کی ادائیگی ان کی سب سے بڑی پریشانی ہے. میرا بل 2500 روپے آیا ہے. دس بارہ ہزار میں سے 2500 تو بجلی کے بل میں ہی نکل جائیں گے تو باقی پیسوں سے چھ بچوں سمیت اپنا پیٹ پورا مہینہ پالنا ہے. رضیہ اکیلی نہیں ہے. ان سے زیادہ کمانے والے بھی کچھ ایسی ہی مشکل میں نظر آتے ہیں 

پاکستان میں مہنگائی میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 30 جون 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال میں مہنگائی کی شرح 21 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی جو ماہرین کے مطابق اب مزید بڑھ گئی.

اس اضافے کی وجہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ڈالر کی قیمت میں اضافہ بھی شامل ہے جس کا منفی اثر آنے والے دنوں میں شدت سے محسوس ہوگا کیونکہ توانائی اور غذائی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے جو ڈولر مہنگا ہونے کی وجہ سے مزید مہنگی ہوں گی.

پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے عام فرد جس پریشانی کا شکار ہے اس کی بڑی وجہ تیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ کھانے پینے کی چیزوں میں ہونے والا اضافہ شامل ہے.

تحریک انصاف حکومت کے پہلے مالی سال کے اختتام یعنی جون 2019 میں مہنگائی کی مجموعی شرح 8 فیصد تھی جب کہ غذائی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ 8.1 فیصد تھا.

اس سے اگلے سال یعنی جون 2020 کے اختتام پر مہنگائی کی مجموعی شرح 8.6 فیصد اور غذائی اشیاء میں اضافہ 14.6 فیصد تھا.

جون 2021 کے اختتام پر مجموعی مہنگائی کی شرح 9.7 فیصد تھی تاہم غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ 10.5 فیصد تھا۔

Post a Comment

0 Comments