عورتوں کے حقوق
ارم اکرم
عورت وہ لفظ ہے جو انسان کو عزت و حرمت سے آگاہ کرتا ہے عورت کے بہت سے حقوق ہیں جو کہ ادا کرنا بہت ضروری ہیں اگر دیکھا جائے تو ایک عورت ہی اس معاشرے کی پہچان ہے وہ پہلے تو ایک مرد کی بنتی ہے پھر وہ ایک ماں بنتی ہے پھر وہ سارے گھر والوں کو ایک مخصوص طریقے سے لے کر چلتی ہے ہمارے معاشرے نے عورت کے حقوق پر توجہ دینی چھوڑ دی ہے جبکہ عورت کا تو معاشرے میں بہت عظیم رتبہ ہے معاشرہ چاہیے عورت کو علیحدہ علیحدہ فرقوں میں تقسیم کر دے لیکن اللہ کی نظر میں سب برابر ہیں
قرآن کریم کی یہ آیت اس بات کی ترجمانی کرتی ہے کہ اللہ کی نظر میں خواہ مرد ہو یا عورت سب برابر ہیں
ترجمہ "میں ہر عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا "
اسلام میں پہلے جس کے گھر بیٹی پیدا ہوتی اس کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا اس کے بعد میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اور بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کا سلسلہ ختم کیا عورت کو عظیم مقام ومرتبہ دیا
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ
ترجمہ " عورت کے معاملے میں اللہ سے ڈرو "
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ترجمہ " بیٹی کی عزت کرنے والا میرے ساتھ جنت میں ایسے ہوگا جیسے یہ دو انگلیاں ساتھ ساتھ ہیں "
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کو اتنی عزت دی کہا کہ جس مرد کی تین بیٹیاں ہو یا جس بھائی کی تین بہنیں ہوں اور وہ ان کی اچھی تعلیم و تربیت کرے ان کی ہر خواہش پوری کرے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے وہ جنت میں میرے ساتھ کھڑا ہو گا
لیکن آج ہمارے معاشرے میں عورت پر بے حساب تشدد کیا جاتا ہے انسان کہتا ہے کہ عورت کو باہر نہیں جانا چاہے لوگ اس سے زیادتی کریں گے لیکن باہر سے زیادہ لوگ اپنے خاندان میں ہی عورتوں پر ظلم تشدد اور نا انصافی کرتے ہیں عورت کو اس کا حق دینے سے انکاری کرتے ہیں ہر مرد اور عورت کو اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ عورت کے معاملے میں دخل اندازی کرے انسان کہتا ہے کہ عورت باہر محفوظ نہیں باہر لوگ اس سے زیادتی کرتے ہیں لیکن 3 میں سے 1 فیصد تک لوگ خاندان والے ہی عورت پر تشدد کرتے ہیں
معاشرے کو چاہئے کہ عورت کے ساتھ ظلم وتشدد اور نا انصافی کرنے والے کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے لیکن ہمارا معاشرا عورت پر خاص توجہ نہیں دیتا عورت کو حق ہے کہ وہ اپنی مرضی سے نکاح کرے اگر خلع چاہے تو وہ بھی لے سکتا ہے عورت کو حق ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی 
عورت وہ لفظ ہے جو انسان کو عزت و حرمت سے آگاہ کرتا ہے۔
تربیت کرے عورت کو سارے حق حاصل ہیں
آج کل معاشرہ عورت پر بہت ظلم کرتا ہے اس کو اس کا حق دینے سے گریز کرتا ہے عورت پر اتنا تشدد کیا جاتا ہے کہ اس پر پٹرول چھڑک کر اس کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے عورت کو پورا حق ہے کہ وہ اپنے حقوق حاصل کرے اور اپنے حق کے مطابق زندگی گزارے اس پر کوئی ظلم زیادتی یا تشدد نہ کیا جائے بلکہ اس کو اس کا حق دینے میں اہم کردار ادا کیا جائے
ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق عورت کو اس کا حق دینا چاہیے کیونکہ وہ عورت کا ذاتی حق ہے اس میں کسی قسم کی کوئی زور زبردستی نہیں ہے لوگ کہتے ہیں کہ عورت یہ نہیں کر سکتی عورت وہ نہیں کرسکتی بلکہ عورت سب کچھ کر سکتی ہے پھر وہی عورت معاشرے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اپنے معاشرے کا نام روشن کرتی ہے عورت کا حق ادا کرنے میں ہمیشہ آگے رہنا چاہیے اگر کہی عورت پر ظلم ہو تو اس پر فوری احتجاج کیا جائے اور عورت کو اس کا حق دینا چاہیے
0 Comments