غزل
تسنیم حسن
بریڈ فورڈ - یو کے
سیلابِ غم نشان کی حد سے گزر گئے
چھت بھی گئی ہے ساتھ ہی دیوار و در گئے
زخموں سے چور چور برہنہ ہوئے شجر
کن موسموں کے درد زمیں پر اتر گئے
ساحل پہ مجھ کو نقشِ کفِ پا نہیں ملا
کیا پوچھتے ہو ریت گھروندے کدھر گئے
دریا کی طرح بہہ کے سمندر میں گر گئے
"کچھ لوگ آس پاس تھے جانے کدھر گئے"
مجھ کو مقامِ ذات کا احساس تب ہوا
اڑنے سے پیشتر جو مرے بال و پر گئے
بے دست و پا پھری سرِ دشتِ بلا یوں نیند
پھر خواب زندگانی کے میرے بکھر گئے
لہجہ بتارہا ہے کوئی کام ہے ضرور
انداز سے تمہارے سبھی کر٘ و فر گئے

0 Comments